بریل کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟

بریل ابھرے ہوئے نقطوں کا ایک رسم الخط ہے جو نابینا اور کم بینا افراد کے لیے ہے۔ ہر حرف چھ نقطوں والے خانے میں نقطوں کا ایک مجموعہ ہوتا ہے، جسے انگلیوں کے پوروں سے پڑھا جاتا ہے۔ بریل کوئی زبان نہیں بلکہ زبان لکھنے کا ایک طریقہ ہے، بالکل عام تحریر کی طرح۔ اردو میں «کتاب» کو ⠅⠞⠁⠃ لکھا جاتا ہے۔

یہ نظام فرانس کے لوئی بریل نے بنایا، جو بچپن سے نابینا تھے، اور اسے 1829 میں شائع کیا۔ پاکستان میں اردو بریل کا ضابطہ «اردو بریل، 1986» ہے۔

مختصراً

  • خانے میں چھ نقطے ہوتے ہیں، تین تین کے دو کالموں میں: بائیں 1، 2، 3 اور دائیں 4، 5، 6۔
  • چھ نقطوں سے 63 علامات اور ایک خالی خانہ بنتا ہے۔
  • اردو کے 40 حروف میں سے ہر ایک کا اپنا خانہ ہے، سوائے ژ کے جو دو خانوں میں لکھا جاتا ہے۔
  • اعراب الگ خانوں میں حرف کے بعد آتے ہیں، اور تشدید حرف سے پہلے۔
  • بریل بائیں سے دائیں پڑھا جاتا ہے، اردو میں بھی۔

چھ نقطوں کا خانہ

پورا بریل ایک ایسے خانے پر قائم ہے جس میں تین تین جگہوں کے دو کالم ہوتے ہیں۔ جگہوں کی گنتی ہمیشہ ایک جیسی ہوتی ہے: بائیں کالم میں اوپر سے نیچے 1، 2 اور 3 اور دائیں کالم میں 4، 5 اور 6۔ حرف کو اس کے نقطوں کے نمبروں سے بیان کیا جاتا ہے: الف نقطہ 1 ہے (⠁)، بے نقطے 1 اور 2 (⠃)، لام نقطے 1، 2 اور 3 (⠇)۔

خانہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ پورا ایک پور کے نیچے آ جاتا ہے، اس لیے حرف ایک لمس سے پہچانا جاتا ہے۔

اردو بریل کیسے لکھا جاتا ہے

پاکستان کا اردو بریل فارسی و عربی بنیاد پر ہے: ب، ت، ج، د جیسے حروف کے خانے عربی بریل جیسے ہیں، اور اردو کے خاص حروف کے اپنے خانے ہیں:

حرف بریل مثال
پ ⠏ پانی: ⠏⠁⠝⠊
ٹ ⠪ ٹوپی: ⠪⠺⠏⠊
ڈ ⠬ ڈاک: ⠬⠁⠅
ڑ ⠻ گاڑی: ⠛⠁⠻⠊
گ ⠛ گھر: ⠛⠦⠗
ں ⠰ میں: ⠍⠊⠰
ے ⠌ ہے: ⠓⠌

تمام 40 حروف ہر خانے کے نقطوں کے ساتھ اردو بریل کے جدول میں ہیں۔ اردو کے خاص نکات، جیسے ھ اور ژ، کے لیے اردو بریل کے حروف پڑھیں۔

اعراب

زبر، زیر اور پیش الگ خانوں میں اپنے حرف کے بعد لکھے جاتے ہیں، اور تشدید حرف سے پہلے:

اعراب بریل مثال
زبر ⠂ بَ: ⠃⠂
زیر ⠑ بِ: ⠃⠑
پیش ⠥ بُ: ⠃⠥
تشدید ⠠ محبّت: ⠍⠱⠠⠃⠞

روزمرہ اردو تحریر میں اعراب بہت کم لکھے جاتے ہیں، اس لیے بریل میں بھی وہ عموماً وہیں آتے ہیں جہاں چھپے ہوئے متن میں ہوں۔

اعداد

بریل میں ہندسوں کے الگ خانے نہیں۔ عدد کا نشان، نقطے 3، 4، 5 اور 6 (⠼)، اور اس کے بعد لاطینی حروف a سے j کے خانے آتے ہیں: ۲۰۲۶ کو ⠼⠃⠚⠃⠋ لکھا جاتا ہے۔ مزید بریل میں اعداد میں۔

بائیں سے دائیں

چھپی ہوئی اردو دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہے، مگر بریل بائیں سے دائیں پڑھا جاتا ہے، دنیا کی ہر زبان کی طرح۔ «پاکستان» کا پہلا خانہ پ ہے، جو سب سے بائیں ہوتا ہے: ⠏⠁⠅⠎⠞⠁⠝۔

پڑھنا اور لکھنا

بریل کو انگلیوں کے پوروں کو لائن پر ہلکے سے پھیر کر پڑھا جاتا ہے، عموماً دونوں ہاتھوں سے: ایک ہاتھ پڑھتا ہے اور دوسرا اگلی لائن کا آغاز ڈھونڈتا ہے۔ لکھنے کے کئی طریقے ہیں:

  • بریل مشین میں چھ کنجیاں ہوتی ہیں، ہر نقطے کے لیے ایک، جو ایک ساتھ دبائی جاتی ہیں۔
  • سلیٹ اور اسٹائلس۔ نقطے کاغذ کی پچھلی طرف سے ابھارے جاتے ہیں، اس لیے دائیں سے بائیں اور الٹا لکھا جاتا ہے؛ پڑھنے کے لیے کاغذ پلٹ دیا جاتا ہے۔
  • کمپیوٹر بریل پرنٹر یا بریل ڈسپلے کے ساتھ، جو اسکرین کا متن اوپر نیچے ہونے والے نقطوں سے دکھاتا ہے۔

عام سوالات

کیا پاکستان اور بھارت میں اردو بریل ایک جیسا ہے؟

نہیں۔ پاکستان کا اردو بریل فارسی و عربی بنیاد پر ہے، جبکہ بھارت میں اردو بھارتی بریل کے مطابق لکھی جاتی ہے، جس میں کئی حروف کے خانے مختلف ہیں۔ مثلاً ٹ پاکستان میں ⠪ ہے۔

ایک حرف میں کتنے نقطے ہوتے ہیں؟

ایک سے چھ تک۔ الف میں ایک نقطہ ہے (⠁)، اور ظ میں چھ (⠿)۔

کیا بینا شخص بریل سیکھ سکتا ہے؟

جی ہاں۔ آنکھوں سے حروف جلد سیکھے جا سکتے ہیں؛ انگلیوں سے پڑھنے کے لیے کہیں زیادہ مشق درکار ہے۔ یہ والدین، اساتذہ اور ہر اس شخص کے لیے مفید ہے جو کسی نابینا فرد کا ساتھ دینا چاہتا ہے۔